تفسیر ابن کثیر
Tafsir Ibn Kathir —
حافظ ابن کثیر
قوم لوط کی خر مستیاں قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط ؑ کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ نے اپنا مہمان کیوں بنایا ؟ ہم تو آپ کو اس سے منع کرچکے ہیں۔ تب آپ نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اس لئے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضا اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں حضور ﷺ سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔ سکرۃ سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
فی ظلال القرآن
Fi Zilal al-Quran —
سید ابراہیم قطب
آیت نمبر 68 تا 69
حضرت لوط (علیہ السلام) کی یہ دلدوز اپیل ، بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں انسانی جذبات کو ابھارے اور یہ کہ وہ شرم محسوس کریں ، اس کے جواب میں انہوں نے مزید دیدہ دلیری شروع کردی۔ انہوں نے خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو ڈانٹ پلانا شروع کردی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کو اپنا مہمان بناتے ہیں جو ہمارے کام کے ہیں۔ گویا مجرم وہ نہیں ہیں بلکہ اصل مجرم حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں کہ وہ ان کے سامنے ایک ایسا شکار لاتے ہیں جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ پر کوئی ضبط نہیں کرسکے۔