تفسیر ابن کثیر
Tafsir Ibn Kathir —
حافظ ابن کثیر
مستحق تعریف قرآن مجید ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہم اس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی کوئی کسر کوئی کمی نہیں صراط مستقیم کی رہبر واضح جلی صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے۔ جو عذاب اللہ کی طرف کے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے ایمان لائے نیک عمل کرے اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔ جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ مشرکین کے سوالات بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں یہ تو یہ ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے کلمۃ کا نصب تمیز کی بنا پر ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے کبرت کلمتہم ھذہ کلمۃ اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارتیہ ہے اعظم بکلمتہم کلمۃ جیسے کہا جاتا ہے اکرم بزید رجلا بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا جیسے ہے کہا جاتا ہے عظم قولک وکبر شانک جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بےدلیل ہے صرف کذب و افترا ہے اسی لئے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں اس سورت کا شان نزول یہ بیان ہوگیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد ﷺ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے ان سے پوچھو ان کی بابت کیا رائے ہے ؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے حضور ﷺ کے حالات و اوصاف بیان کئے آپ کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو اگر بتادے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتاسکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔ یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتادی ہے۔ اب چلو حضرت ﷺ سے سوالات کریں چناچہ یہ سب آپ کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں لیکن انشاء اللہ کہنا بھول گئے پندرہ دن گزر گئے نہ آپ پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا اہل مکہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہوجانے کا پھر حضرت جبرائیل ؑ آئے سورة کہف نازل ہوئی اسی میں انشاء اللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور آیت (وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85) 17۔ الإسراء :85) میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔
فی ظلال القرآن
Fi Zilal al-Quran —
سید ابراہیم قطب
اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟
لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔
او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔
اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟
لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “
اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔
لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔
وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔
الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔
اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔