تفسیر ابن کثیر
Tafsir Ibn Kathir —
حافظ ابن کثیر
ایک وحشی بستی۔ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کرلیتے تو بہت اچھا ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الہٰی کی تبلیغ میں رہے ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہے۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظرنہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہوجایا کرتے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہوجاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بجھالیتے۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہ نہیں بنا سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہیں ٹھہرنا انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا یہاں سے پہلے ایک لشکر آیا تھا سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھیرا رہا سب مرگئے یہ ان کی ہڈیاں ہیں یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
فی ظلال القرآن
Fi Zilal al-Quran —
سید ابراہیم قطب
مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔
حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔
اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔
یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔