تفسیر ابن کثیر
Tafsir Ibn Kathir —
حافظ ابن کثیر
یعنی دنیا میں تو ان کافروں کی خوب بن آئی تھی ایمان داروں کو مذاق میں اڑاتے رہے، چلتے پھرتے آواز کستے رہے اور حقارت و تذلیل کرتے رہے اور اپنے والوں میں جا کر خوب باتیں بناتے تھے جو چاہتے تھے پاتے تھے لیکن شکر تو کہاں اور کفر پر آمادہ ہو کر مسلمانوں کی ایذار سانی کے درپے ہوجاتے تھے اور چونکہ مسلمان ان کی مانتے نہ تھے تو یہ انہیں گمراہ کہا کرتے تھے اللہ فرماتا ہے کچھ یہ لوگ محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے انہیں مومنوں کی کیا پڑی کیوں ہر وقت ان کے پیچھے پڑے ہیں اور ان کے اعمال افعال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور طعنہ آمیز باتیں بناتے رہتے ہیں ؟ جیسے اور جگہ ہے اخسؤا فیھا الخ یعنی اس جہنم میں پڑے جھلستے رہو مجھ سے بات نہ کرو میرے بعض خاص بندے کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم کر تو سب سے بڑا رحم و کرم کرنے والا ہے تو تم نے انہیں مذاق میں اڑایا اور اس قدر غافل ہوئے کہ میری یاد بھلا بیٹھے اور ان سے ہنسی مداق کرنے لگے دیکھو آج میں نے انہیں ان کے صبر کا یہ بدلا دیا ہے کہ وہ ہر طرح کامیاب ہیں یہاں بھی اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ آج قیامت کے دن ایماندار ان بدکاروں پر ہنس رہے ہیں اور تختوں پر بیٹھے اپنے اللہ کو دیکھ رہے ہیں جو اس کا صاف ثبوت ہے کہ یہ گمراہ نہ تھے گو تم انہیں گم کردہ راہ کہا کرتے تھے بلکہ یہ دراصل اولیاء اللہ تھے مقربین اللہ تھے اسی لیے آج اللہ کا دیدار ان کی نگاہوں کے سامنے ہے یہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے بزرگی والے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جیسا کچھ ان کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ دنیا میں کیا تھا اس کا پورا بدلہ انہیں آخرت میں مل گیا یا نہیں ؟ ان کے مذاق کے بدلے آج ان کی ہنسی اڑائی گئی یہ ان کا مرتبہ گھٹاتے تھے اللہ نے ان کا مرتبہ بڑھایا غرض پورا پورا تمام و کمال بدلہ دے دیا۔ الحمد اللہ سورة مطففین کی تفسیر ختم ہوئی۔
فی ظلال القرآن
Fi Zilal al-Quran —
سید ابراہیم قطب
فالیوم ........................ ینظرون (35:83) ” آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں “۔ آج کا دن کیسا ہے کہ کفار دیدار ربانی جیسی نعمت سے محروم اور محجوب ہیں۔ اور اس محرومیت کا ان کو بےحد غم ہے ، اس کی وجہ سے ان کی انسانیت گرگئی اور وہ واصل جہنم ہوگئے اور اس جہنم رسیدگی پر مزید یہ کہ ان کی اہانت بھی ہوگی اور سرزنش بھی ہوگی۔
ھذا ................ تکذبون (17:83) ” وہ یہی ہے نا وہ چیز جس کی تم تکذیب کرتے تھے ؟ “ آج کا دن تو یوں ہے کہ اہل ایمان اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے ہیں اور کفار کے حالات کا نظارہ کررہے ہیں اور دائمی نعمتوں میں مزے لے رہے ہیں ، سر بند خالص اور صاف شراب سے ان کی تواضع ہورہی ہے اور اس سر بند شراب پر مہر اور سیل مشک کی ہوگی اور اس کے اندر چشمہ تسنیم کے خوش ذائقہ پانی کا امتزاج ہوگا اور آج کفار کے حالات کو دیکھ کر اہل ایمان مسکرائیں گے۔