تفسیر ابن کثیر
Tafsir Ibn Kathir —
حافظ ابن کثیر
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
فی ظلال القرآن
Fi Zilal al-Quran —
سید ابراہیم قطب
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔